,

NADVIYAT KYA HAI?

Nadviyat

Nadviyat Kya hai, I cannot reduce this conception to mathematical formulation, equation and identity as Hazrat Maulana Sheikh Abul Hasan Ali Nadvi Rahimahullah did, which I found while exploring the portal of Darul Uloom Nadwatul Ulema at Lucknow beside Gomti River and on the one side of the University of Lucknow. The rector of this Islamic seminary for a longtime reverently known as Ali Miya has formulated Maslak-e-Nadwa in his own distinctive burdensome Urdu style that we can think as “Nadviyat Kya Hai” as per his understanding: The text reads as under:
ندوۃ العلماء کا مسلک
از: مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمتہ اللہ علیہ
دین وعقائد کے معاملہ میں ندوۃ العلماء کے مسلک کی بنیاد دین خالص پر ہے جو ہر قسم کی آمیزش اور آلائش سے پاک، تاویل اور تحریف سے بلند، ملاوٹ اور فریب کی دسترس سے دور اور ہر اعتبار سے مکمل اور محفوظ ہے۔
دین کے فہم اور اس کی تشریح اور تعبیر میں اس کی بنیاد اسلام کے اولین اور صاف وشفاف سر چشموں سے استفادہ اور اس کی اصل کی طرف رجوع پر ہے۔
اعمال واخلاق کے شعبہ میں دین کے جوہر ومغز کو اختیار کرنے، اس پر مضبوطی سے قائم رہنے، احکام شرعیہ پر عمل، حقیقتِ دین اور روحِ دین سے زیادہ قربت تقوی اور صلاح باطن پر ہے۔
تصور تاریخ میں اس کی بنیاد اس پر ہے کہ ا سلام کے ظہور اور عروج کا دور اول سب سے بہتر اور قابل احترام دور، اور وہ نسل جس نے آغوش نبوت ﷺ اور درسگاہ رسالت ﷺ میں تربیت پائی اور قرآن وایمان کے مدرسہ سے تیار ہوکر نکلی سب سے زیادہ مثالی اور قابل تقلید نسل ہے اور ہماری سعادت ونجات اور فلاح وکامرانی اس بات پر منحصر ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ اس سے استفادہ کریں اور اس کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کریں۔
نظریۂ علم اور فلسفۂ تعلیم میں اس کی اساس اس پر ہے کہ علم بذات خود ایک اکائی ہے جو قدیم وجدید اور مشرق ومغرب کے خانوں میں تقسیم نہیں کی جاسکتی اگر اس کی کوئی تقسیم ممکن ہے تو وہ تقسیم صحیح اور غلط، مفید اور مضر اور ذرائع اور مقاصد کے اعتبار سے ہوگی۔
استفادہ اور افادہ اور ترک وقبول کے شعبہ میں اس کا عمل اس حکیمانہ نبوی تعلیم پر ہے کہ “الحكمة ضالة المؤمن حيث وجدها فهو أحق بها” (حکمت مومن کا گمشدہ مال ہے جہاں بھی وہ اس کو پائے وہ اس کا مستحق ہے)، نیز قدیم حکیمانہ اسلوب: “خذ ما صفا ودع ما كدر” یعنی جو صاف ونظیف ہو اس کو لے لو اور جو آلودہ اور کثیف ہو اس کو چھوڑ دو۔
اسلام کے دفاع اور عصر حاضر کی لادینی قوتوں کے مقابلہ میں اس کی اساس اس ارشاد ربانی پر ہے: “وأعدوا لهم ما ا ستطعتم من قوة” [الأنفال] یعنی ان کے مقابلہ کے لیے جتنی قوت تم سے ممکن ہوسکے تیاری کرو۔
دعوت الی اللہ، اسلام کے محاسن وفضائل کی تشریح اور ذہن وعقل کو اس کی حقانیت وصداقت پر مطمئن کرنے میں اس کا عمل اس حکیمانہ وصیت پر ہے کہ: “كلموا الناس على قدر عقولهم, أتريدون أن يكذب الله ورسوله” یعنی لوگوں سے ان ک عقلوں کا خیال رکھتے ہوئے گفتگو کرو کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو جھٹلا دیا جائے۔
عقائد واصول میں وہ جمہور اہل سنت کے مسلک کی پابندی اور سلف کے آراء وتحقیقات کے دائرہ میں محدود رہنا ضروری سمجھتا ہے فروعی اور فقہی مسائل کے بارے میں اس کا مسلک واصول یہ ہے کہ حتی الامکان اختلافی مسائل کو چھیڑنے اور ہر ایسے طرز عمل سے احتراز کیا جائے جس سے باہمی منافرت بڑھے اور امت کا شیرازہ منتشر ہو، سلف صالحین سے حسن ظن رکھا جائے اور ان کے لیے عذر تلاش کیا جائے، اسلام کی مصلحت اجتماعی کو ہر مصلحت پر ترجیح دی جائے۔
مختصر یہ کہ وہ حکیم الاسلام حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی (متوفی ۱۱۷۶ھ) کے علمی وفکری اور کلامی وفقہی مدرسۂ فکر سے زیادہ قریب اور ہم آہنگ ہے اس لحاظ سے ندوۃ العلماء ایک محدود تعلیمی مرکز سے زیادہ ایک جامع اور کثیر المقاصد دبستان فکر اور مکتب خیال ہے

Logically, the very preamble formulated in the first paragraph and the conclusion in the last section is flawed. According to the Maulana, Nadviyat is closer to Hazrat Shah Waliullah Dehlavi, why it is closer to Shah Waliullah and it does not have anything to do with Allama Shibli, Allama Iqbal and even Sir Syed Ahmad Khan.

Every Nadvi knows intuitively that Nadviyat must be something between north and south poles of Deobandiyat. One pole is fixed in Deoband and another one has its root in Aligarh. Praise to be Allah and Alhamdulillah, Nadviyat is not attached to any place; Nadviyat is not related to a particular person as Deobandiyat is deeply related to some personalities. Nadviyat is not Tablighiyat, Nadviyat is not what we can term Jamat-e-Islami, whose followers follow Maulana Abul Ala Maududi, a particular person with particular bent of mind and Nadviyat is not Barelwiyat founded by Maulana Ahmad Raza Khan. Then, what is Nadviyat? (Jari hai)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *